اخلاق و عادات باہم مترادف ہیں۔
یہ دراصل نفسِ انسانی میں راسخ ایک ایسی
کیفیت یا ہیئت کو کہتے ہیں جہاں سے اعمال و افعال کا بلا تکلف صدور ہوتا ہے۔ یعنی
ایک ایسا عمل جو غیر ارادی یا فطری طورپر واقع ہو اور اسے واقع یا ظاہر ہونے میں
کسی بھی قسم کی کوشش یا ارادہ کے دخل نہ ہو تو اسے اخلاق سے تعبیر کیا جائے گا۔
اس قسم کے اعمال باربار یا مسلسل انداز میں
واقع ہوتے ہیں، بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہمارے اعمال کا ایک بڑاحصہ محض
عادتوں کی بنیاد پر ہی اپنے انجام کو پہنچتے ہیں۔
عادتیں ہماری پہچان ہوتی ہیں، ہم اچھے ہیں یا
برے ہیں، خود غرض ہیں یا اعلی ظرف ہیں، دراصل ان تمام باتوں کا فیصلہ ہماری عادتوں
کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
عادتیں ہماری کامیابی یا ناکامی میں انتہائی
اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔
انسانی شخصیت کے ارتقاء اور کامیابی حصول میں
عادتوں کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے اسٹیفن آر۔ کوے۔ اپنی كتاب The 7 Habits of Highly Effective Peopleمیں
لکھتا ہے:
"Our Character, basically is
a composite of our habits. Sow a thought, reap an action; Sow an action, reap a
habit; Sow a habit, reap a character; Sow a character; reap a destiny,"
the maxim goes.
Habits are powerful factors in
our lives. Because they are consistent, often unconscious patterns, they
constantly, daily, express our character and produce effectiveness… or
ineffectiveness."
"]ہمارا کردار، تو یہ درحقیقت ہماری عادات کا ہی ایک مجموعہ ہے۔ " ایک
خیال کی تخم ریزی، عمل کی شکل میں نمودار ہوتی ہے؛ عمل کے بیج سے عادتیں جنم لیتی
ہیں؛ عادتیں، کردار کا سبب بنتی ہیں؛ اور ہمارے کردار کی بنیاد پرہمارے انجام کا
فیصلہ ہوتا ہے"۔
عادتیں ہماری زندگیوں میں طاقتور عوامل كی حیثیت ركھتی ہیں، كیوںكہ ان میں استقلال كا عنصر
نمایاں ہو تا ہے، عام فہم لفظوں میں كہاجاءے تو یہ ہمارے لاشعور كے وہ خاكے ہیں،
جو مسلسل انداز میں، روزمرہ كی بنیاد پر ہمارے كردار كو ظاہر كرتے ہیں اور ہماری
شخصیت كو موثر۔۔۔ یا غیر موثر بناتے ہیں۔[
سچ
تو یہ ہے كہ
عادتیں ہمیں شناخت عطا كرتی ہیں،
لوگوں كی بھیڑ میں
ہماری پہچان كا سبب بنتی ہیں۔ اسی وجہ سے
كہا گیا ہے كہ "اپنی عادتوں كو پہچانو، قبل اس كے، كہ یہ آپ کی پہچان بن
جائیں۔
ایک اہم سوال جو کہ بہت حد تک خودی کے عرفان سے متعلق ہے، اکثر وہ لوگ جو
سیلف ریئلائیزیش یا سیلف اکچولائیزیشن کے
سفر کی ابتداء کر رہے ہو تے ہیں، خود سے سوال کرتے ہیں کہ:
Who am I?
]میں کوں ہوں[
غالباً اسی كے جواب میں یونان كے
عظیم فلسفی ارسطونے كہا ہے:
"We are what we repeatedly do. Exellence, then, is not an
act, but a habit."
]ہم وہی ہیں جو ہم بار بار كرتے ہیں۔ رہا سوال خوبی یا بڑائی كا، تو یہ
کوئی ایک انفرادی عمل نہیں ، بلکہ ایک عادت کا نام ہے[
یعنی کسی ایک
عمل کو بہت بہتر انداز میں انجام دے دینا کافی نہیں ہے، بلکہ کمال تو یہ ہے کہ اسے
اپنی عادتوں میں ڈھال لیا جائے۔
دوستو! اگر آپ اس بات کو لے کر پر تجسس ہیں
کہ آپ کا مستقبل کیا ہے؟ تو آپ اپنی روزمرہ کی عادتوں کو دیکھ لیں کیونکہ آپ کا
مستقبل آپ کی عادتوں کا رہین منت ہے۔
آپ جو آج ہیں
اور کل کو جو آپ بن سکتے ہیں، اس کے درمیان صرف آپ کی عادتیں حائل ہیں۔
کہاجا تا ہےکہ:
The secret of your future is hidden in your daily routine.
]آپ کے مستقبل کا راز آپ کی عادتوں میں پوشیدہ ہے[
دوستو! میں
اپنی بات كو بس یہں پر ختم كرتا ہوں، اس امید كے ساتھ كہ میری یہ چھوٹی سی كوشش آپ
کی زندگی میں ایک ویلیو ایڈ کر نے کا سبب بنے گی۔
فقط والسلام
اللہ حافظ
Comments
Post a Comment